28 فروری 2015 - 08:50
روس میں اسلامی خطاطی

2014 روس کی ثقافت کے لیے اہم رہا۔ پہلی بار سرکاری سطح پر اسلامی خطاطی کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تاتارستان کے صدر رستم منی خانوو نے ثقافت کے ضمن میں ولادیمیر پوپوو کو ان کی خطاطی پر گبدل تاکائیا (عبدل تقی) سے منسوب اعزاز مرحمت فرمایا۔ مصور اس سال ہی نوّے برس کے۔ اس موقع کی یاد میں ہم کوشش کریں گے کہ "کازان کے مظہر" کو سمجھ سکیں۔
تاتارستان کے عظیم شاعر اور تاتار کلاسیکی شاعری کی علامت تقی کے یوم ولادت پر 26 اپریل کو واضح ہوا کہ ان کے نام سے منسوب اعزاز 2014 کے لیے واحد اماموو کو ان کے دوجلدوں پر مشتمل ناول "اتلی دالا" ( آتشیں زینہ) کی بنیاد پر اور ولادیمیر پوپوو کو ان کی خطاطی کے فن پاروں کے سلسلے میں دیا گیا ہے۔ صدر منی خانوو نے تقریب کے استقبالی خطاب میں کہا کہ موجودہ برس خاص اہمیت کا حامل ہے۔ "آج کے تہوار سے پہلے ری پبلک کی زندگی میں بہت سے بھرپور واقعات ہوئے۔ یہ سال روس میں ثقافت کا سال ہے۔ کازان کو ترک دنیا کے ثقافتی شہر کا درجہ حاصل ہے، کچھ ہی عرصہ پیشتر بلگار کو یونیسکو کی عالمی ثقافت کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
تقی کے نام سے منسوب اعزاز دیے جانے میں کونسی باتیں اہم ہیں؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی خطاطی ایک مذہبی فن ہے۔ اس کو پہلی بار اس سطح پر تسلیم کیا گیا۔ ہم تقی کے نام سے موسوم اعزاز ثقافت کے ضمن میں پھر بھی دیں گے۔ اصل میں تو یہ پورے روس کے لیے اہم ہے جس کے لیے کازان نے فن کی اس شکل کا در وا کیا ہے۔"
سبھی جانتے ہیں کہ مختلف قوموں کے فنون اور روایات کو روسی فیڈریشن میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کو کئی بار ایسی ہی سطوح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ پہلی بار روس کے قدامت پرست کلیسا کی تعمیر وتزئین کرنے والوں اور شبیہہ کاروں کو اعزازات دیے گئے تھے۔ پھر دوسری ریپبلکوں میں جیسے مثال کے طور پر بریاتیا، کالموکیا اور تووا میں بدھ مت سے وابستہ فنون کو مانا گیا۔
یہ درست ہے کہ روس کے آئین کے مطابق مذہب ریاست سے جدا ہے مگر مذہب کے کردار خاص طور پر نوجوانوں کی تربیت میں اس کے کردار سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ اس کے برعکس سرکاری عقیدہ جاتی اور سرکاری نجی سطح پر اس میدان میں شراکت کاری ہوئی ہے جس میں ہر کوئی اپنے نقطہ نظر اور اپنی تجاویز کو سامنے لاتا ہے۔
ثقافت امن کو فروغ دینے میں اہم ہوتی ہے۔ کازان عہد قدیم سے ہی مشرق اور مغرب کی تہذیبوں کا سنگم رہا ہے جو روس کے لیے مشرق کے دروازے کھولتا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ 2014 میں مصور موصوف نوے برس کے ہو چکے ہیں مگر خطاط کے طور پر وہ آج بھی جوان ہیں جو ستر برس سے اپنے فن کی بو قلمونی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انسان کے دماغ اور دل کے کتنے راز ہیں جو کھلتے ہی چلے جاتے ہیں۔
وہ ایک زمانے میں ماہر مصور تھے جن کے شہ پارے قدرتی مناظر سے متعلق ہوتے تھے۔ ایک بار اسلامی خطاطی کا ایک البم ان کی نظر سے گذرا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ محض خطاطی نہیں بلکہ اس میں ایک فکر پنہاں ہوتی ہے۔ یہ قرانی آیات، احادیث اور مشرقی شعرا کے اشعار پر مبنی ہوتی ہے۔
مصور نے سوچا میں ایسا نہیں کر سکتا کیا؟ کوشش تو کر دیکھنی چاہیے۔
وہ کہتے ہیں نہ کہ کہا کیا کے مترادف ہوتا ہے۔ اگلے ہی دن دے پوپوو نے اسلامی خطاطی کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ حقیقت پرست مصور پوپوو نے بالآخر خطاطی شروع کر دی اور اسے کمال مہارت تک پہنچا دیا۔ انہیں اس میدان میں کئی انعامات پہلے ہی مل چکے ہیں۔ وہ روسی فیڈریشن اور ری پبلک تاتارستان کے نامور مصوروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
کازان کے اس مظہر کا اہم ترین حصہ خود پوپوو ہیں اور یہ بات انعام دیے جانے کی تقریب میں بھی کہی گئی۔ وہ جنگ عظیم کے معمّر سپاہی ہیں جن کا جنگی سفر برلن میں جا کر تمام ہوا تھا۔ ان کو بہت سے عسکری تمغے مل چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے فن کو امن کے نام کیا ہوا ہے تاکہ لوگوں ، ثقافتوں اور ملکوں کو جوڑا جا سکے۔ یوں ان کی زندگی ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔
امن کے لیے خطاطی" کے نام سے مشرق اور مغرب میں ہوئی نمائشوں میں انہوں نے یونہی حصہ نہیں لیا جن میں ترکی، مراکش اور نیوزی لینڈ کے مصوروں نے بھی اپنے فن پارے پیش کیے۔ یہ نمائشیں ترکی، مراکش، مصر، لبنان، اردن اور بیلا روس مین ہوئی ہیں۔ 2000 میں وہ پہلی بار تہران کے قرآن اور خطاطی سے متعلق فیسٹیول میں شریک ہوئے جہاں انہوں ایران کے صدر محمد خاتمی کو تب کازان کے کریملن میں نئی بنائی گئی مسجد کل شریف کا نمونہ بطور تحفہ پیش کیا تھا۔
جس اعزاز کی بات ہو رہی ہے اس کی ایک اور ثقافتی سیاسی جہت ہے۔ یہ اعزاز جس کو انتطامی کمیٹی نے پوپوو کو دیا جانا منظور کیا اور جس پر خوشدلی سے تاتارستان کے سربراہ نے دستخط کر دیے، پہلی نگاہ میں عجیب لگتا ہے کیونکہ پوپوو روسی النسل ہیں۔ کئی سال سے کازان میں تاتاروں کے بیچ رہتے ہیں، وہ کازان کے قدیم فن اسلامی خطاطی سے وابستہ ہیں جس کی نمائش وہ اسلامی ملکوں میں کرتے ہیں اور خود کو منواتے ہیں۔
یہی تو ہماری فروغ پاتی ہوئی ثقافت کا حسن ہے۔ اس کو یوریشیائی کہہ لیں یا روسی۔ وسیع معنوں میں صدیوں سے سلاو اور ترک نسلوں کے لوگ جو عیسائی بھی ہیں اور مسلمان بھی آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں۔ تاتارستان پوری دنیا کو اچھے ہمسایوں کی یہ مثال پیش کرتا ہے۔ پوپوو لو یہ اعزاز دیا جانا ہماری ثقافت کی قوت کی ایک روشن مثال ہے جس کو ہمارے لوگوں نے مل کر پروان چڑھایا ہے۔
پوپوو کی خطاطی کی اہمیت یہ ہے کہ ایک عرصے سے مشرق و مغرب کے سنگم کازان سے ان کے فن نے بہت سی قوموں کو ایک لڑی میں جوڑ دیا ہے۔ بیلاروس میں ان کے فن پاروں کی نمائش ساری دنیا کو امن کی دعوت دیے جانے کے مترادف ہے کہ متحد ہو کر عالمی ثقافت کی بنیاد رکھی جائے۔ جنگ عظیم کے معمر سپاہی کا خواب ہے کہ دنیا میں امن ہو۔
.......

/169